علامہ خادم حسین رضوی خطبہ جمعہ (28 جون 2019)

الحمد للّٰہ !الحمد للہ نحمدہ ونستعینہ ونستغفرہ ونؤمن بہ ونتوکل علیہ ونعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیأت اعمالنا من یھدہ اللہ فلا مضلل لہ ومن یضلل فلا ھادی لہ ونشھد ان لاالہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ ونشھد ان سیدنا و نبینا و حبیبنا ومولانا محمدا عبدہ و رسولہ – اما بعد فااعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم

فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُم بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا

القرآن، سورۃ البقرہ، آیۃ 237

ترجمہ کنز الایمان: پھر اگر وہ بھی یونہی ایمان لائے جیسا تم لائے جب تو وہ ہدایت پاگئے

صدق اللہ العظیم و صدق رسولہ نبی الکریم الامین۔ ان اللہ و ملائکتہ یصلون علی نبی یا ایھا الذین آمنو صلو علیہ وسلمو تسلیما۔

الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

وعلی آلک واصحابک یا حبیب اللہ

الصلاۃ والسلام علیک یا رسول اللہ

وعلی آلک و اصحابک یا خاتم النبیین

بندہ اے پروردگارم امت احمد نبی

دوست دار چار یارم تابع اولاد علی

مذہب حنفیہ دارم ملت حضرت خلیل

خاک پائے غوث اعظم زیرسایہ ہر ولی

صدیقؓ عکس حسن کمال محمدﷺ است

فاروقؓ ظل جاہ و جلال محمدﷺ است

عثمانؓ ضیاء شمع جمال محمد ﷺ است

حیدرؓ بہارِ باغِ خصال محمد ﷺ است

صلی اللہ تعالی علیہ وسلم

حضرا ت ذی وقار سامین محترم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن بارگاہ قدس میں مسجد نبوی شریف میں بیٹھے ہوئے تھے تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا انْطَلِقُوا إلى يَهُودَ سارے یہودیوں کی طرف چلیں۔ کہتے ہیں ہم نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔ جب نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام یہودیوں کے پاس پہنچے تو آپ نے سب یہودیوں کو جمع فرمایا اور اس کے بعد فرمایا کہ

يا مَعْشَرَ يَهُودَ، أسْلِمُوا تَسْلَمُوا

فرمایا کہ اسلام قبول کر لو بچ جاؤ گے۔ اسلام کا مزاج یہ ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی کا میں نے کہیں پڑھا ہی نہیں ہے۔ یہ سب منافقت ہے

حضور نے ان کے پاس جا کر فرمایا کہ أسْلِمُوا تَسْلَمُوا

کلمہ پڑھ لو بچ جاؤ گے۔ مسلمان ہو جاؤ۔ مجھے مانو۔ تو آگے پھر انہوں نے کہا

قدْ بَلَّغْتَ يا أبا القاسِمِ

انہوں نےکہا کہ آپ نے تو ہمیں تبلیغ فرما دی ہے۔ یعنی متکبرانہ لہجہ تھا۔ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے پھر دوبارہ فرمایا أسْلِمُوا تَسْلَمُوا

بات کان کھول کر سنو! کلمہ پڑھ لو بچ جاؤ گے! پھر انہوں نے دوبارہ آگے سے کہا

قدْ بَلَّغْتَ يا أبا القاسِمِ

تو نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے تیسری مرتبہ فرمایا کہ کلمہ پڑھ لو بچ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کان کھول کر سنو

أنَّ الأرْضَ لِلَّهِ ورَسولِهِ، وإنِّي أُرِيدُ أنْ أُجْلِيَكُمْ مِن هذِه الأرْضِ

نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ میں تمہیں یہ کہہ رہا ہوں کہ کلمہ پڑھ لو بچ جاؤ گے۔ اور یہ بھی کان کھول کر سنو کہ یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ اور فرمایا کہ میں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ میں نے تمہیں مدینہ پاک سے جلا وطن کر دینا ہے، تمہیں یہاں سے نکال دینا ہے۔ یہ ہے اسلام کا مزاج۔ یہ بھی ٹھیک، وہ بھی ٹھیک، وہ بھی ٹھیک – – –

اقبال کہتا ہے کہ

در غلامی عشق و مذهب را فراق

انگبین زندگانی بد مذاق

(زبور عجم)

جب قومیں کسی کی غلام ہو جاتی ہیں تو پھر ، غلامی بس یہیں نہیں ہے کہ غیروں کی غلامی بلکہ غلامی کی بڑے طریقے ہیں، ان کا مذہب اور غشق جدا جدا ہو جاتے ہیں۔ بلکہ وہیں طریقہ ہوتا ہے کہ جب نبی علیہ الصلاۃ والسلام غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو منافق اس وقت مسجد بنا رہے تھے۔ منافق کا اپنا ایک مزاج ہوتا ہے۔ چھوڑو جی یہ کیا طریقہ ہے۔ ہمیں علیحدہ جھنڈے کی کیا ضرورت ہے؟ جتھے کوئی لگیا اے لگیا ای رین دو(جہاں کوئی لگا ہے لگا رہنے دو)۔ پھر یہودی مدینہ پاک میں رہ رہے تھے، جہاں لگے تھے لگے رہتے۔ پھر رسول اللہ نے ان کو کیوں فرمایا کہ اسلمو تسلمو ، کلمہ پڑھو بچ جاؤ گے۔ تین مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ۔ اور آپ نے فرمایا کہ یہ جو تمہیں گھمنڈ ہے کہ تم یہاں رہتے ہو، فرمایا یہ زمین اللہ اس کے رسول کی ہے۔ اور میں نے تمہیں یہاں سے نکال دینا ہے۔ آج لوگ کہتے ہیں جی کہ انگریزوں نے بڑی ترقی کی ہے آپ اگر ان کے خلاف بولنا چاہتے ہیں تو ان کے موبائل واپس کر دیں۔ فلاں کر دیں۔ میں نے کہا پہلے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کی زمین سے نکلیں باہر۔

( حاضرین کی جانب سے لبیک لبیک لبیک یا رسول اللہ کے نعرے بلند نعرے)

توجہ! تو جب وہ اللہ رسول کی زمین ہمیں واپس کر دیں گے تو ہم بھی ان کے موبائل واپس کر دیں گے۔ وہ تو ہمارے نوکر ہیں اور اللہ کی زمین پر رہ کر نوکری کر رہے ہیں۔ ہم پر احسان تھوڑا ہی کر رہے ہیں۔ ہمارے لوگ اتنے مرعوب ہیں۔ ان کو دین کا پتا ہی نہیں ہے،”جی یہ جو آپ کا موبائل ہے، ان کا ہے۔ یہ بتی ان کی ہے”۔ میں نے کہا کون سا احسان کر رہے ہیں زمین ہماری استعمال کر رہے ہیں۔ اللہ کی ساری نعمتیں استعمال کر رہے ہیں۔ اتنی ساری موبائلی بنا کے کیا کر دیا انہوں نے؟ اتنے مرعوب ہو گئے۔ اقبال کہتا ہے:

نہ کر افرنگ کا اندازہ اس کی تابناکی سے

کہ بجلی کے چراغوں سے ہے اس جوہر کی براقی

(بال جبریل)

فریاد از افرنگ و دلآویزی افرنگ

فریاد ز شیرینی و پرویزی افرنگ

عالم همه ویرانه ز چنگیزی افرنگ

معمار حرم باز به تعمیر جهان خیز

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

از خواب گران خیز

ای غنچه خوابیده چو نرگس نگران خیز (زبور عجم)

ہمارے لوگ ان کی لنڈا سائینس استعمال کرتے ہیں۔ جس طرح کپڑے لنڈے کے استعمال کرتے ہیں سائینس بھی ان کی لنڈے کی استعمال کرتے ہیں۔ خود اٹھیں۔ اقبال تو کہہ گيا بس بھئی بڑا سو چکا۔ اب اٹھ۔

از خواب گران خواب گران خواب گران خیز

باقی رہ گیا انگریز اور افرنگی۔ یہ تو چنگیز خاں اور ہلاکو خاں سے بھی بڑے ظالم ہیں:

نکته ها کو می نگنجد در سخن

یک جهان آشوب و یک گیتی فتن

(پس چه باید کرد؟ )

اقبال کہتا ہے میں وہاں دیکھ کر آیا ہوں کہ وہاں مسلمانو ن کے خلاف جو فتنے سوچے جاتے ہیں۔ اور سازشیں تیار ہوتی ہیں انہیں احاطہ تحریر میں نہیں لایا جا سکتا۔ ان کو لکھا نہیں جا سکتا۔ لیکن گندی سازشوں سے پورے عالم کر تہہ و بالا کر کے رکھ دیتے ہیں۔ آپ دیکھ نہیں رہے کہ امریکہ کہاں سے چلا اور کہاں تک تہ و بالا کرتا چلا گیا۔ اقبال پہلے ہی یہ بات کر گیا:

از فریب او اگر خواهی امان

اشترانش را ز حوض خود بران

حرفی چند با امت عربیه (پس چه باید کرد؟)

اقبال کہتا ہے اگر امت مسلمہ چاہتی ہے کہ فرنگیوں کے فتنوں سے اور ان کی سازشوں سے اور ان کے جتنے بھی گندے کارنامے ہیں ان سے بچنا چاہتی ہے تو پھر ایک ہی طریقہ ہے کہ ان کے اونٹوں کو اپنے حوضوں پر پانی نہیں پینے دینا۔ میں نے کہا اقبال اگر تو آج ہوتا تو تجھے پتا چلتا کہ پانی تو درکنار انہوں نے ان کے اونٹ اپنے کھونٹوں پر باندھ لیئے ہیں۔ میں اقبال کو دکھاتا کہ کو ن کون سا اونٹ کون کون سے کھونٹے سے بندھا ہوا ہے۔ اسی لیے امت مسلمہ آج زوال کا شکار ہے۔ اور ان کے فتنوں کے اندر مبتلا ہے۔ اور پھر ان کی باتی ہمیں سناتے ہیں۔ کہ جی وہ یہ ہیں۔ انہوں نے کیا ترقی کی جو اپنی ماں کو نہ پہجان سکے، جو اپنی بہن کو نہ پہچان سکے، اپنی پھوپھی کو نہ پہچان سکے، جو اپنی خالہ کو نہ پہچان سکے اور جو حرام حلال کو نہ پہچان سکے، انہوں نے ہمیں کیا سبق دینا ہے؟ وہ تو ہیں ہی خسارے میں۔ ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ

وَالْعَصْرِ ﴿﴾ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ

القرآن، سورۃ العصر، آیۃ 2

ایسا ہے یا نہیں۔ قرآن کا یہ فیصلہ ہے کہ انسان خسارے میں ہے۔ فائدے میں کون ہے؟ فرمایا:

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

القرآن، سورۃ العصر، آیۃ 3

یہ تو ہیں ہی خسارے میں۔ ان کے پیچھے چل کر خسارہ ہی ہو سکتا ہے۔ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ خسارے میں ہے تم کیسے کہتے ہو کہ وہ ترقی کر رہے ہیں۔ “ترقی” اس لیے کہ تم نے جو دین مصطفی کو چھوڑا۔ ہاں جی! اقبال کہتا ہے کہ شیطان نے مجلس شوری طلب کی اور کہا:

جانتا ہوں میں یہ امت حامل قرآں نہیں

ہے وہی سرمایہ داری بند مومن کا دیں

جانتا ہوں میں کہ مشرق کی اندھیری رات میں

بے ید بیضا ہے پیران حرم کی آستیں

(ارمغان حجاز)

اقبال کہتا ہے میں جانتا ہوں کہ جنہوں نے خود دین کا کام کرنا تھا، جنہوں نے دین کو تخت پر لانا تھا، یقین ہی ان کو نہیں ہے کہ واقعی دین مصطفی تخت پر آ سکتا ہے۔ وہ بھی یورپ کا ایک دورہ کر کے آتے ہیں تو ان کی زلفوں کے اسیر ہو جاتے ہیں اور یہاں آ کر پاکستانیوں کو کہتے ہیں ہم نے وہاں بہت کچھ دیکھا ۔ کیا دیکھا؟ ہمیں پتا ہے کیا دیکھا، میں نے کہا اقبال بھی وہاں دیکھ کر آیا اور کہنے لگا، توبہ توبہ توبہ

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہ دانش فرنگ

سرمہ ہے میری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

(بال جبریل)

مے از میخانهٔ مغرب چشیدم

بجان من که درد سر خریدم

نشستم با نکویان فرنگی

از آن بی سوز تر روزی ندیدم

(ارمغان حجاز)

کہنے لگا کہ ہاں میں بھی یورپ گیا۔ میں دیکھنے گیا کہ وہ کیا پڑھاتے ہیں وہاں ۔ انہوں نے میرے سر درد ہی میں اضافہ کیا۔

نشستم با نکویان فرنگی

از آن بی سوز تر روزی ندیدم

(ارمغان حجاز)

میں بھی افرنگی سائینسدانوں، دانشوروں، پروفیسروں کے ساتھ بیٹھا۔ انہوں نے میرے سر درد ہی میں اضافہ کیا اور میرا بدترین وقت وہ تھا جو میں نے ان کے پاس گزارا۔

فقیرم از تو خواهم هر چه خواهم

دل کوهی ، خراش از برگ کاهم

مرا درس حکیمان درد سر داد

که من پروردهٔ فیض نگاهم

(اقبال، ارمغان حجاز)

جو بھی کام ہوا وہ یارسول اللہ آپ ہی سے مانگوں گا۔ یہ مجھے کیا دے سکتے ہیں۔ اسی لیے ہمارے لوگ اقبال کو پس پشت رکھتے ہیں۔ جتنے بھی یہ چوں چوں کے مربے جمع ہو رہے ہیں جو کہہ رہے ہیں کہ ہم نے مذہب کو بیچ میں نہیں آنے دینا، میں نے کہا پہلے تو تم خود پاکستان سے باہر نکلو۔ اگر سیاست میں مذہب کو استعمال نہیں ہونے دینا تو پاکستان کی تو بنیادوں ہی میں مذہب داخل ہوا تو پاکستان بنا

روٹی کپڑے دا دسو قائداعظم نے ایک وی نعرہ لایا ہووے (مجھے بتاؤ اگر قائداعظم نے ایک بھی نعرہ روٹی اور کپڑے کا لگایا ہو)۔ پیر سید مراد علی شاہ صاحب نے یا سید ابو الحسنات قادری نے یا سید نعیم الدین مراد آباد نے یہ نعرہ لگایا ہو ۔ ہمارے بڑوں نے تو یہ نعرہ لگایا تھا کہ:

بٹ کے رہے گا ہندوستان اور بن کے رہے گا پاکستان

اور

پاکستان کا مطلب کیا؟ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

روٹی کپڑے کا نعرہ آپ کے بڑوں نے لگایا تھا۔ اس لیے پہلے تم پاکستان سے باہر نکلو۔ (بلاول زرداری) کہتا ہے کہ مولوی مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ میں نے کہا ہمارے سب بڑوں نے سیاست کے لیے مذہب کو استعمال کیا ہے۔ مذہب کے اس نعرے پر تو لوگوں نے اپنی بچیاں قربان کیں۔ اب تمہارے کہنے سے ایک بندہ بھی احتجاج کے لیے روڈ پر نہیں آیا۔ یہ ملک بنانے کے لیے اس وقت لوگوں نے جانیں کیوں دے دیں؟ اب دس بندے بھی تمہارے ساتھ نکلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ جرائت ہے تو نکال کر دکھاؤ۔ جب بھی کوئی گردن کٹے گی یا بڑے سے بڑا کام ہو گا۔۔۔

اره، بره، کنکره

کرائ، کری، مندره

حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی قبر انور پہ حبشی زبان کی نعت کا یہ شعر لکھا ہوا ہے۔

اذالمکارم فی آفاقنا اذا ذکرت

و فینا بک یضرب المثل

جب بڑی بڑی باتیں ہوں گی نا کہ فلاں نے یہ کیا فلاں نے یہ کیا، بطور لیڈر، بطور راہنما، تلوار چلانے والے کے طور پر، عدل کرنے والے کے، متقی پرہیزگار، قیامت تک جب بڑی بڑی باتیں ہوں گی تو کوئی بھی پیش نہیں کیا جائے گا مگر آپ کی برکت سے آپ کے غلاموں کو پیش کیا جائے گا۔

لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ

ہمیں کوئی مت بتائے کہ ہم نے کس راستے پر چلنا ہے۔ جمہوریت کے راستے پر چلنا ہے یا کس راستے پر چلنا ہے ہمیں ہمارے آقا و مولا صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بتا گئے کہ ہم نے کس راستے پر چلنا ہے۔ نبی علیہ السلام نے فرمایا

عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ

(ابو داؤد)

کہ تم پر لازم ہے کہ میرے راستے پر چلو اور پھر میرے خلفاء راشدین کے راستے پر چلنا ہے۔

اقبالؔ! یہاں نام نہ لے علم خودی کا
موزوں نہیں مکتب کے لیے ایسے مقالات

بہتر ہے کہ بیچارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقامات

(ضرب کلیم)

اس لیے یہ بات ہے کہ َعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي۔ اپنے مسلمان ہونے کی حیثیت سے بتائیں کہ حضور کی سنت مبارکہ کیا ہے؟ کیا حضور نے 10 سال حکمرانی نہیں فرمائی؟ کیا حضور نے حکومت نہیں فرمائی؟ کیا حضور نے 10 سال سیاست نہیں فرمائی؟ یہ جو کہتے ہیں کہ ہم تو بڑے نیک لوگ ہوتے ہیں تو میں نے کہا امام الانبیاء نے تو خود سیاست فرمائی۔ کیا نہیں فرمائی؟ حضور نے ظاہری دنیا سے تشریف لے جاتے ہوئے آخری گفتگو سیاست پر فرمائی۔ آپ نے تین باتیں فرمائیں:

حضور کی پہلی بات سیاسی گفتگو تھی، دوسری بین الاقوامی تعلقات اور تیسری امت کے معاملات

حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں اس کے بعد حضور نے ظاہری دنیا میں کوئی گفتگو نہیں فرمائی۔ آپ نے فرمایا

أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ

(صحیح بخاری > كتاب الجزية والموادعة > باب إِخْرَاجِ الْيَهُودِ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ)

فرمایا، “میں ظاہری دنیا سے جا رہا ہوں۔ میرے جو نائب آئيں وہ یہود و نصاری کو جزیرۃ العرب سے نکال دیں”۔ لوگ یہ کیوں بیان نہیں کرتے؟ مل کر رہیں، محبت سے رہیں۔ بڑھاؤ محبت کی پینگیں۔ کونسی محبت کی پینگیں؟ جن کے متعلق حضور نے فرمایا کہ ان کو جزیرۃ العرب سے نکال دینا ہے اور تم آج وہاں جوئے خالے کھول رہے ہو۔ تم بھی عرب سے نکل جاؤ، تمہیں وہاں رہنے کا کوئی حق نہیں ہے اگر تم حرمین کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ اگر وہاں کے مولویوں نے جوئے خانوں کے افتتاح کرنے ہیں تو وہ مولوی پیشہ چھوڑ کر دکان داریاں کریں۔ مولویوں کی ذمہ داری حضور نے خود لگائی کہ مولویوں نے کیا کام کرنا ہے؟ تم کلب کھول رہے ہو؟ اس طرح نہیں ہو گا۔ حضور نے تو فرمایا تھا کہ یہود و نصاری کو عرب سے نکال دینا ہے۔ اور دوسری بات آپ نے فرمائی کہ

وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ

فرمایا میں ظاہری دنیا سے تشریف لے جارہا ہوں، “میرا جو جانشین بنے، دنیا سے جتے بھی وفود مجھے ملنے کے لیے آتے تھے تو جس طرح میں ان کو تحفے پیش کرتا تھا میرا نائب بھی ان کو ایسے ہی تحفے پیش کرے”۔ یہ دوسری بات حضور نے بین الاقوامی تعلقات کے متعلق فرمائی۔ یہ بات سیاسی بھی ہے لیکن اس نظریے سے حضور کی سیرت کسی نے کبھی پڑھی ہی نہیں۔ جب صحیح بخاری کے 40، 40 صفے، حصول برکت کے لیے، ایک دن میں پڑھا دیں گے تو پھر انہیں یہ تھوڑا پڑھانا ہے کہ ان 40 صفحوں میں حضور کی کیا سیرت گزری؟ کیا تعلقات گزرے؟ حضور نے اپنی امت کو کیا فرمایا؟ یہ تو حدیث پاک برکت کے لیے پڑھتے ہیں۔ اس لیے تھوڑا ہی پڑھتے ہیں کہ ہم نے دنیا کے سامنے نظام مصطفی کو پیش کرنا ہے۔ اقبال کہتا ہے:

علم حق را در قفا انداختی

بهر نانی نقد دین در باختی

(اسرار خودی) اندرز میر نجات نقشبند المعروف به بابای صحرائی که برای مسلمانان هندوستان رقم فرموده است

اقبال کہتا ہے کہ قرآن اور حدیث کو تو اٹھا کر تو نے پیٹھ کے پیچھے رکھ دیا اب تو اپنی روٹیوں کی خاطر اور ملازمتوں کی خاطر ساری زندگی ٹکنالوجی اور بیالوجی پڑھتا رہ اب کیا تجھے کوئی روک سکتا ہے؟

قیمت شمشاد خود نشناختی

سرو دیگر را بلند انداختی

(اسرار خودی)

اقبال کہتا ہے کہ تو نے اپنے سونے کی قیمت تو سمجھی نہیں اور دوسروں کا لوہا لے کر سونا سونا پکارتا پھرتا ہے کہ یہ سونا لے لو۔ یہاں انگلش میڈیم پڑھایا جاتا ہے! یہاں یہ پڑھایا جاتا ہے! یہاں یہ پڑھایا جاتا ہے! دوسروں کے لوہے کو سونا کہتا پھرتا ہے اور اپنے سونے کی قدر و قیمت نہیں پہچان سکا کہ حضرت صدیق اکبر سے لے کر وحشی بن حرب تک جو نظام صحابہ نے رسول اللہ سے پڑھا اور دنیا میں نافذ کر کے دکھایا کہ دریا کے کنارے بکری کا بچہ بھی پیاسا بھی نہ مرا۔ تو اپنے سونے کی قیمت نہ پہچان سکا اور دوسروں کی ردی چیزی لے کر سونا سونا کرتے نہ تجھے روٹی ملی، نہ تجھے جمہوریت ملی، نہ تجھے سڑکیں ملیں، نہ تجھے بجلی ملی، شرم و حیا کا تو ایسے جنازہ انہوں نے نکال دیا۔ اقبال یہیں تو بات کہتا ہے۔

ہمارے جو امام نسائی ہیں نہ نسائی شریف والے جو صحاح ستہ کی کتاب ہے، مسلمان مجاہدین جب ان کے گاؤں پہنچے تو سارے مرد بھاگ گئے تھے اور ایک مرد بھی نہیں رہا، بس عورتیں ہی عورتیں تھیں۔ جب مسلمان مجاہدین کو پتا چلا کہ یہاں تو بس عورتیں ہی ہیں تو انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو غیروں کی عورتیں ہیں لوٹ مار کرو قتل و غارت کرو، بلکہ انہوں نے کہا کہ ہمیں عورتوں سے لڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ وہ اس گاؤں کو چھوڑ کر واپس آ گئے۔ کہ یہاں تو صرف عورتیں ہی ہیں۔ تم کیا کر رہے ہو؟ یہ ہے مسلمانو ں کا کردار! جب حاتم طائی کی بیٹی ننگے سر حضور کے سامنے آئی، قید ہو کر آئيں تو پھر رسول اللہ نے پوچھا کہ کیا چاہتی ہو؟ تو کہا میں نے اب یہاں نہیں رہنا۔ مجھے میرے بھائي عدی بن حاتم کے پاس بھیج دیں جو شام بھاگ گیا ہے۔ آپ مجھے سواری دیں اور راستے کا خرچہ دیں، زاد راہ دیں اور مجھے آپ آزاد کر دیں۔ حضور نے فرمایا اس کو سواری بھی دے دو، ان کو کپڑے بھی دے دو، ان کو زاد راہ بھی دے دو اور ان کو باحفاظت شام روانہ کر دو۔ جب وہ شام پہنچی تو عدی بن حاتم، حاتم طائی کا بیٹا، نے کہا تھا کہ کچھ ہو جائے میں نے حضور کا کلمہ نہیں پڑھنا۔ جب وہ بہن بھائی کے پاس پہنچی تو اس نے پوچھا کہ تو کہان سے آ رہی ہے؟ اس نے کہا میں تو رسول اللہ کے دربار سے آ رہی ہوں۔ اس نے پوچھا پھر کیا ہوا؟ اس نے کہا میں تو قید ہو گئی تھی۔ اس نے پوچھا تمہیں قتل نہیں کیا؟ کہا تو قتل کی بات کرتا ہے؟ اس نے پوچھا تو نے ان کو کیسا پایا؟

اس نے کہا بھا ئي جان یہاں سمجھ آنے والی بات نہیں ہے۔

اس نے کہا میں نے تو نہیں ماننا

اس نے کہا پاگل ہو رہے ہو، ایک بار جاؤ تو سہی، دیکھو تو سہی

تو آیا نہ در تے کیون بدنصیبا

ہزارا رنگاں وچ رنگیدے محمد

عدی بن حاتم کہتے ہیں میں نے تو تیز سواری رکھی ہوئی تھی۔ بہن کے کہنے پر میں نے کہا کہ میں تو بھاگ آیا ہوں، میں نے حضور کا کلمہ نہیں پڑھنا۔ بہن نے اصرار کیا کہ ایک بار جاؤ تو سہی۔ میں وہ بتا نہیں سکتی ۔ ایک بار جا کر تم چہرہ انور تو دیکھو، خلق عظیم دیکھو تو سہی۔ ان کے اخلاق اور عادات دیکھو تو سہی ۔ وہ کہتے ہیں میں وہاں سے بھاگتا آیا۔ جب میں آیا تو مجھے پتا چلا کہ حضور مسجد نبوی شریف میں تشریف فرما ہیں۔ کہتے ہیں میں جب جا کر حاضر ہوا تو حضور میرے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان مولویوں پیروں نے خود ایسے اخلاق پیش کیے ہوتے تو، میں آپ سے سچی بات کر رہا ہوں، ٹرمپ کا بھی کلمہ پڑھے بغیر چارہ نہیں، مودی بھی کلمہ پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ مولویوں نے خود اس راستے پر نہیں چلنا تھا تو چونکہ چنانچہ سے کام چلاتے ہیں۔

کیوں جی وہ جو عورت اپنے ایک عزیز کی قبر پر رو رہی تھی اور حضور قریب سے گزرے تو فرمایا:

اصبری اصبری

اس کو نہیں پتا تھا کہ رسول اللہ فرما رہے ہیں۔ اس نے سر رکھا ہوا تھا اور غم تھا۔ غم چیز ہی ایسی ہوتی ہے۔ اسی لیے حضور نے فرمایا کہ میرا امتی پناہ مانگے۔ غم بندے کو تباہ کر کے رکھ دیتا ہے۔ اس نے کہا مجھے اصبری کہنے والے اگر تمہیں یہ مصیبت پہنچی ہوتی تو تم مجھے یہ نہ کہتے۔ میرے آقا نے یہ بات سنی تو حضور چل دئیے۔ اور اس عورت سے اور کوئی بات نہ فرمائی۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ جب اگلا آدمی ایسی حالت میں ہو تو اس کو تبلیغ نہین کرنی چاہئیے۔ جو بات کر دی سو کر دی اب کیا زبردستی اسے ڈھا کر منانا ہے۔ لبیک کا نعرہ جس کو سمجھ نہیں آیا اس کو ڈھا کر اب آپ اور کا منائیں گے؟ جو یہ بھی نہیں کہتا کہ حضور میں بھی حاضر، لبیک کا معنی اتنا ہی ہے، میرے بچے بھی حاضر، میرا مال بھی حاضر، میری عزت بھی حاضر میرے والدین بھی حاضر

اس سے زیادہ لبیک کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اور تاجدار ختم نبوت کے نعرے کا اس سے زیادہ کوئی معنی نہیں ہے کہ ساری دنیا چاہے تہہ و بالا ہو جائے مگر حضور کی ختم نبوت پر پہرہ ہر صورت میں ہو گا۔

(نعرے تاجدار ختم نبوت زندہ باد)

لوگ ان کو سیاسی نعرہ بنائے پھرتے ہیں۔ پیڑاں ہور تے پھکیاں ہور

امت اس نعرے پر کھڑی ہو گئی

اور جو نیچے اختلافات تھے امت ان کو بھلا گئی۔

انہوں نے کہا بس بھئی، لبیک

مسجد نبوی شریف میں عرب بھی کہتے ہیں لبیک یارسول اللہ

ہم عربی ہیں مگر یہ نعرہ تو ہمارا بھی ہے

مصری بھی کہتے ہیں لبیک یارسول اللہ

پورا عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کہہ رہی ہے اس وقت لبیک یارسول اللہ

اس سے بڑا اللہ کا کیا کرم ہو سکتا ہے؟ یہ امت اختلافات کو بھلا کر حضور کی غلامی کے لیے جمع ہو گئی۔

میں سوچتا تھا کہ اقبال کا یہ خواب کب پورا ہو گا؟

زانکہ ملت را حیات از عشق اوست

برگ و ساز کائنات از عشق اوست

(پیام مشرق)

اقبال کہتا تھا کہ ملت کی حیات، ملت کی ترقی، ملت کا عروج اور پوری دنیا پر اسلام کے غلبے کی ایک ہی وجہ ہے کہ امت حضور سے پیار کرے حضور سے عشق کرے۔ میں کہتا تھا یہ کیسے ہو گا؟ لیکن رب ہے جو چاہے کرے۔ یہ نہیں پتہ تھا کہ ممتاز قادری نے جو تختہ دار پر لبیک کہا تھا اس نعرے کی برکت سے پوری امت ایسے کھڑی ہو جائے گی۔

نعرہ : حرائت و بہادری ممتاز حسین قادری

بات اتنی ہی ہے۔ وہ عورت جس نے حضور سے بات کی کہ مجھے بہت مصیبت پہنچی ہے اس کو پتہ نہیں تھا کہ یہ رسول اللہ ہیں۔ غم کتنی عجیب چیز ہے کہ وہ حضور کی آواز کو بھی نہ پہچان سکی

اللھم انی اعوذبک من الغم والحزن

حضور کی اپنی دعائے مبارکہ ہے کہ میرا امتی کہے میں پناہ مانگتا ہوں غم اور حزن سے۔ یہ بڑی سخت چیز ہے۔ اب میں اگلی بات کرنے لگا ہوں۔ بعد میں جب صحابہ آئے تو انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کو پتہ ہے کہ جنہوں نے آپ سے کہا تھا اصبری وہ کون تھے؟ کہا نہیں، کہا وہ تو خود رسول اللہ تھے۔ وہ بولی کیا میں نے حضور کو یہ جواب دیا ہے؟ وہ کہتی ہیں میں پھر گئی چلتی چلتی حضور کے دربار تک پہنچی۔ میں جو بات کرنے لگا ہون وہ یہ ہے۔ کہتی ہے جب میں حضور کے دروازے تک پہنچی تو میں نے وہاں کوئی چوکیدار نہیں پایا۔ 50، 50 گارڈ آگے اور 50 50 گارڈ پیچھے ان حضرت صاحب سے سلام کون لے گا؟ جوتیاں پہنانے والے اور، جبے پہنانے والے اور، میک اپ کرنے والے اور۔ میں نے تو ایسا کوئی اسوہ حسنہ نہیں پڑھا۔ جھلیا اسی واسطے تو ایک بار عدی بن حاتم آئے اور رسول اللہ سے ملاقات ہوئی تو حضور اٹھ کھڑے ہوئے۔ عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میرے دل نے گواہی دی کہ یہ اللہ کے رسول ہیں۔

عدی بن حاتم کہتے ہیں پھر حضور نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنے در اقدس کی طرف چل پڑے۔ کہتے ہیں راستے میں ایک بڑھیا عورت مل گئی۔ عورتوں کی ویسے بھی باتیں ختم نہیں ہوتیں اور وہ مائی تھی بھی بوڑھی، کہتے ہیں اس نے بہت لمبی گفتگو کی لیکن حضور کے چہرہ انور پر ناگواری کے آثار بھی ظاہر نہیں ہوئے کہ میرے ساتھ مہمان ہے اب بس بھی کر دو۔ کہتے ہیں میں کھڑا کھڑا تھک گیا لیکن رسول اللہ نے ایک مرتبہ بھی اس مائی کو نہیں فرمایا کہ مائی بس کر اور کام تھوڑے ہیں؟ کہتے ہیں اس نے اپنی پوری گفتگو مکمل کی تو حضور چلے۔ اب دوسری مرتبہ میرے دل نے گواہی دی کہ حضور اللہ کے رسول ہیں۔

کہتے ہیں جب رسول اللہ گھر تشریف لائے تو حضور کی ایک مبارک تلائی تھی جس پر حضور آرام فرماتے تھے۔ اس میں کھجور کی چھال بھری ہوئي تھی، کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ اس پر وہ بدن مبارک آرام کرتا تھا جن کے بارے میں حضرت انس کہتے ہیں میں نے دس برس خدمت کی، حضور سے ہزاروں مرتبہ سلام لیا، حضور کے مبارک ہاتھوں کو بوسہ دیا لیکن

عن انس رضي الله عنه، قال:” ما مسست حريرا ولا ديباجا الين من كف النبي صلى الله عليه وسلم، ولا شممت ريحا قط، او عرفا قط اطيب من ريح او عرف النبي صلى الله عليه وسلم”

(صحیح بخاری)

نہ میں نے کوئی ریشم چھوا نہ کائینات میں اور کوئی نرم کپڑا ایسا میرے ہاتھ میں آیا جو حضور کے مبارک ہاتھوں سے زیادہ نرم ہو۔ حضور اس تلائی پر سوتے تھے جس میں روئی نہیں تھی کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی۔ نہ انہوں نے کبھی چھال پر سونا ہے نہ کبھی بدر میں جانا ہے۔ نہ انہوں نے کبھی تلوار پکڑ کر خندق میں پہرے دینے ہیں۔ انہوں نے تو یہ ہی کہنا ہے کہ یہ لبیک والے کیا کر رہے ہیں؟

اسلام تو امن کا درس دیتا ہے

میں کہتا ہوں خندق میں کتنے بندے آئے؟ یہ بتائیں نہ قوم کو

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَّمْ تَرَوْهَا ۚ وَكَانَ اللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ﴿٩﴾ إِذْ جَاءُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتِ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّـهِ الظُّنُونَا ﴿١٠﴾ هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا ﴿١١﴾ وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا ﴿١٢﴾ (القرآن، سورۃ الاحزاب، آیۃ 9 تا 12)

مشکل وقت میں یہ کام تو منافق کا ہوتا ہے، اوہو ، یہ تو کریک ڈاؤن ہو گیا۔ میں نے کہا پھر کیا ہوا یہ تو منافق کا کام ہوتا ہے کہ جب مشکل حالات آئيں تو کہتا ہے دیکھو جی اللہ رسول نے ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیا۔ میں ہاتھ کرنے کا معنی کر رہا ہوں ۔ لفظی معنی تو یہیں بنتا ہے۔ انہوں نے اللہ رسول کے ساتھ کیا نسبت کر دی کہ ہمیں تو دھوکہ دیا گیا، ہمارے ساتھ دیکھو یہ کیا بن گیا۔ کہتے تھے ہمہیں تو پیشاب کرنے کا خوف ہے کہ کوئی پیشاب کرنے جائے تو بندہ مار دیا جائے گا تو قیصرو کسری کب فتح ہوں گے؟ یہاں مدینے میں تو پیشاب کرنے کی بھی سہولت نہیں رہی۔ 25000 کا لشکر آ گیا۔ منافق کا کام ہی یہ ہوتا ہے کہ جب اصحابہ کیا کیا کارنامے سر انجام دے رہے تھے اور منافق کیا کہہ رہے تھے- ان کا بھی رب نے قرآن میں ذکر فرمایا کہ منافق کہنے لگے

وَإِذْ قَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ يَا أَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوا ۚ وَيَسْتَأْذِنُ فَرِيقٌ مِّنْهُمُ النَّبِيَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌ وَمَا هِيَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًا ﴿١٣﴾

(القرآن، سورۃ الاحزاب، آیۃ 13)

کیوں جی یہ نہیں فرمایا قرآن میں؟ چلو جی چلیے چلیے یہاں تو 25000 کا لشکر آ گیا ہے آج تو کوئی بچ ہی نہیں سکتا۔ حضور سے کہنے لگے کہ گھر پیچھے ہیں، گھروں میں بندہ کوئي نہیں ہے کیا بنے گا۔ اللہ نے فرمایا حبیب جب کاشانہ اقدس سے آپ چل کر آ گئے تو کیا آپ کا پیچھے گھر کوئی نہیں ہے؟ صدیق اکبر کا گھر کوئی نہیں؟ فاروق اعظم کا گھر کوئی نہیں؟ عثمان غنی کا گھر کوئي نہیں؟ حیدر کرار کا گھر کوئی نہیں؟ ان کے گھر علیحدہ آ گئے؟ میرے حبیب گھر خطرے میں ہونے کا مسئلہ نہیں یہ تو میدان چھوڑ کر بھاگنے لگے ہیں

اوہ جی ہمارا لبیک سے کوئی تعلق نہیں ہے- مشکل وقت جو آ گیا اس لیے ہمارا لبیک سے کوئی تعلق نہیں۔ یہیں تو بات ہے ۔ اقبال کہتا ہے

اگر درس قرآن نہ ہم نے بھلایا ہوتا

یہ زمانہ نہ زمانے نے دکھا یا ہوتا

(اقبال)

مشکل کے وقت یہ منافقت کے کام ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ہی نہیں کہ غزوہ خندق کے موقع پر رسول اللہ خود تلوار پکڑ کر کھڑے ہوے تھے۔ 25000 کا لشکر خندق کے کنارے آ گیا۔ عمرہ بن عبد ود گھوڑ ا دوڑا کر چھلانگ لگا کر اس طرف آ گیا تو 25000 کا لشکر گھوڑوں سمیت آ جانا چاہتا تھا اس وقت میرے آقا و مولا خود تلوار پکڑ کر کھڑے ہو گئے۔ اور حضور کو اللہ نے دبدبا کتنا دیا تھا

کانہ و ھو فرد فی جلالتہ

فی عسکر حین تلقاہ فی حشم

(قصیدہ بردہ شریف)

(حضرت حسان کا شعر پڑھا جو ہمیں سمجھ نہیں آ سکا)

دوسرا حضرت حسان کا شعر ہے پہلا امام بوصیری کا شعرہے

کہا اللہ نے ہمارے حضور کو ہیبت اور جلال اتنا عطا فرمایا کہ حضور تنہا بھی کھڑے ہوتے تو محسوس ہوتا کہ حضور کی پشت پر لاکھوں کا لشکر ہے۔

(نعرے: لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ)

حضور خود تلوار لے کر کھڑے ہوئے۔ کیوں جی یہ ‘علیکم بسنتی’ ہے نہ؟ کیا یہ سنت نہیں ہے کہ جب دین پر مشکل وقت آیا تو رسول اللہ خود تلوار پکڑ کر کھڑے ہو گئے؟ کیا یہ ان کے لیے سنت نہیں تھی جب حضور کی ختم نبوت پر مشکل وقت آیا حملہ ہو گیا اور حضور کی عزت پر حملہ ہو گیا تو کیا قوم کے مذہبی راہنماؤں کی، پیرو ں کی، فقیروں کی، مولویوں کی یہ ذمہ داری نہیں تھی کہ خود میدان میں نکل آتے۔ یہ ہے ‘علیکم بسنتی و سنت الخلفائی الراشدین’۔ اس کے علاوہ سنت خلفاء کیا ہے؟ یہ تو حضور کا اپنا طریقہ مبارکہ تو بتایا۔ سنت خلفاء کیا ہے کہ جب جنگ یمامہ میں مسیلمہ آیا تو ‘افضل الخلق بعد رسل’ نے فرمایا کہ بدری ہو یا غیر بدری ہو، بوڑھا ہو یا جوان ہو، آنکھوں والا اصحابی ہو یا نابینا ہو، ہاتھ سلامت ہوں یا کٹے ہوئے ہوں سارے یمامہ پہنچیں۔ یہ ہے ‘علیکم بسنتی و سنت الخلفائی’

(نعرہ لبیک لبیک لبیک یارسول اللہ)

(تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد زندہ باد)

‘علیکم بسنتی و سنت الخلفائی’

خلفاء کی بھی یہیں سنت ہے کہ جب ختم نبوت کا مسئلہ آیا تو پھر سیدنا صدیق اکبر خود بھی تلوار پکڑ کر چل پڑے۔ لشکر تو روانہ کیے ہی، پھر خود بھی چل پڑے۔ حضرت مولائے کائینات حضرت علی نے روکا اور فرمایا کہ ابو بکر آپ کو کچھ نقصان ہو گیا تو ہمارا کیا بنے گا ؟ جناب یہ ہے سنت طریقہ۔ ہم تو جیلوں میں جا بیٹھے تھے پھر جو لوگ پیچھے تھے ان کا کیا کام تھا؟ بلوں میں گھسنا مقصد تھا؟

کیا یہ ہے علیکم بسنتی و سنت الخلفائی

تحریک لبیک یارسول اللہ کا بس یہیں دستور ہے

علیکم بسنتی و سنت الخلفائی

حضور نے خود حکومت فرمائی یا نہیں؟

(حاضرین بولے فرمائی)

کیا صدیق اکبر نے حکومت نہیں فرمائی؟

(بے شک)

حضرت عمر؟

( بے شک)

عثمان غنی

(بے شک)

حیدر کرار

(بے شک)

پھر امام حسن

پھر حضرت امیر معاویہ

پھر عمر بن عبدالعزیز

(بے شک)

پھر صلاح الدین ایوبی

پھر نورالدیں زنگی

پھر طارق بن زیاد

پھر چلتے چلتے برصغیر میں شہاب الدین محمد غوری، اسلامی سلطنت کا بانی نہیں آیا؟

اس کے علاوہ ہمارا لبیک کا کیا کام ہے؟ جو مرضی دل لگا کر حضور کے دین کو تخت پر لے کر آئے ہم اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ مسئلہ ہی کوئی نہیں ۔ لیکن جب دین مذہب بن جائے تو پھر تھانے میں جا کر پوچھا جاتا ہے کہ ہم نے محفل میلاد کرنی ہے اجازت ہے؟

جواب ملتا ہے نہيں نہیں آپ کو نہیں پتا کہ ملک کے حالات کیسے ہیں؟

ہاں دو گھنٹے کا ٹائم ہے سپیکر کی احتیاط کرنی ہے دور آواز نہ جائے۔ سمجھ آئی نہ بات۔ جب دین مذہب بن جائے تو پھر پاور کسی اور کے پاس ہوتی ہے اور عبادات کسی اور کے پاس ہوتی ہے۔ جب دین دین رہے تو پھر مسلے پر بھی صدیق اکبر اور لشکر روانہ کرنے والے بھی صدیق اکبر۔

پھر اس وقت جو امیر المؤمنین کا خطبہ ہوتا ہے وہ پوری دنیا کے لیے ایک پیغام ہوتا ہے۔ صدیق اکبر نے مسلے پر نماز بھی پڑھائی اور۔۔۔

نہیں نماز بعد میں پڑھائی پہلے آپ نے اصحابہ کو جمع کر کے خطبہ کیا دیا؟ یہ ہوتا ہے

جی آج قوم سے خطاب ہو گا۔ کیا خطاب ہو گا؟

تھوڑا صبر کرو ڈالر تھوڑا اور اوپر جانے دو پھر خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ یہ تھوڑا ہے۔ انہیں اس جیل میں رکھو جہاں ہمیں رکھا تھا ۔ پہلے جناب کو کرسیاں میز پھر ائیر کنڈیشنڈ لگا ہوا، اس کو کیا پتہ لگے گا؟ جن چکیوں میں ہمیں رکھا انہیں بھی وہاں رکھو، دوسرے دن کہیں گے ہم قوم کا پیسہ واپس دیتے ہیں۔ جب پہلے ہی ساری سہولتیں دیں گے تو پھر یہ کیسے ہو گا؟

صدیق اکبر نے یہ ہی فرمایا کہ جو تم میں سے کمزور ہے وہ اپنے آپ کو کمزور نہ سمجھے یہاں تک کہ میں حق اس کے دروازے تک نہ پہنچا دوں۔ فرمایا جو آدمی اپنے آپ کو طاقتور سمجھتا ہے اور جو سمجھتا ہے کہ میں صدیق کے ہوتے ہوئے کسی کا حق چھین لوں گا تو وہ کان کھول کر سنے، میرے نزدیک وہ بہت ہی کمزور ہے یہاں تک کہ میں کان سے پکڑ کر اس سے حق وصول کروں۔ جو قوم اللہ کے راستے میں جہاد چھوڑ دے گی اللہ اسے ذلیل کر دے گا۔

اسی لیے تو پہلے انہوں نے جہاد کو گالی بنایا۔ جہاد کو دہشت گردی بنا کر پیش کیا۔ کیونکہ قوم جب تک جہاد کرتی رہتی تھی قوم نے ذلیل نہیں ہونا تھا ذلت کی وجہ ہی یہ بنی کہ صدیق اکبر نے فرمایا جب قوم جہاد چھوڑ دے گی اللہ ان کو ذلیل کر دے گا۔ آج 56 ملک ہیں ایک جگہہ بھی جہاد کی کوئی صورت حال نہیں ہے صرف امریکہ کی غلامی ہے ہر ایک آگے بڑھ رہا ہے کہ میں بڑا غلام ہوں۔ وہ کہتا ہے اچھا ماشاءاللہ

شاباش شاباش ، تم اور کام کرو، شاباش اور کام کرو

دوسرا کہتا ہے میں بھی حاضر ہوں وہ کہتا ہے بچے جمورے اور کام کرو۔ پھر اور کام کرو

انہوں نے مسجدوں کے سپیکر اتارے اب نصاب بھی تبدیل کرو کیوں جی

غنیمت کو غنیمت نہ رہنے دو بلکہ اس کا ترجمہ لوٹ مار کر دو

کہتا ہے بچے جمورے اور بھی کام کرو، شاباش شاباش

یہیں ہو رہا ہے اور کیا ہو رہا ہے

(جناب صدیق اکبر کا عربی خطبہ نقل فرمایا) سیدنا صدیق اکبر نے فرمایا جس قوم میں بے حیائی عام ہو جائے گی فحاشی عام ہو جائے گی عریانی عام ہو جائے گی بے راہ روی عام ہو جائے گی اللہ اس کو ایسی ایس مصیبتوں میں مبتلا کرے گا ایسی ایسی بلائیں ان پر نازل کرے گا۔

لوگ فروٹ کھانے کو پریشان ہو جائیں گے

خالص دودھ پینے کو نہیں ملے گا

خالص دوائی نہیں ملے گی

ہسپتال ڈاکٹروں سے خالی ہو جائیں گے

کیوں

یہیں بلائیں ہیں اور بلائیں کیا ہوتی ہیں؟ عورتون کو بازاروں کی ذینت بنا کر تم کیا سمجھتے ہو کہ یہاں روٹی ملے گی ؟ عزت سے کچھے بھی نہیں ملے گا۔ ہاں سیدنا صدیق اکبر یہ بات فرما گئے

اگلی بات ہمیں مانو

آپ نے یہ بات کیوں کی؟

سیدنا صدیق اکبر نے ہمیں یہ قاعدہ بتایا۔ فرمایا کہ

(جناب صدیق اکبر کا عربی خطبہ نقل فرمایا) فرمایا میری عزت اس وقت تک کرنی ہے میرے پیچھے اس وقت تک چلنا ہے جب میں اللہ رسول کے پیچھے چلوں۔

کیوں جی ساری زندگی گا کر ہسپتال بنایا پھر زکوۃ مانگی۔ اسلام کے تم خلاف بولتے ہو پھر زکوۃ کس بات کی مانگتے ہو؟ کیوں مانگتے ہو اسلام کے نام پر ؟ اسلام کا تو ایک قانون بھی بنانے پر تیار نہیں ہوتے۔ زکواتیں اسلام کے نام پر مانگتے ہو۔ ناچ ناچ کر جب ہسپتال بناتے ہوتو پھر کہتے ہو زکوۃ ہمیں دو۔ فلاں ہمیں دو ۔ یہ تو اسلام کی چیزیں ہیں تم اپنی کوئی چیزیں مہیا کرو۔ اسلام تو تمہیں ایٹم بم لگتا ہے

بس تحریک لبیک یارسول اللہ کا ایک ہی پیغام ہے

ہمارے خلاف جتنی بھی لوگ سازشیں کرتے ہیں

قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا

(القرآن، سورۃ یونس، آیۃ 21)

ہمیں کبھی بھی پریشانی نہیں ہوئی

جب وہ سازشیں کرتے تھے تو اللہ نے فرمایا میرے حبیب اعلان آپ فرما دیں قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۔میرے حبیب آپ یہ اعلان فرمائیں کہ ساری کائنات میں اللہ رب العالمین سب سے جلدی خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے۔ جو اسلام کے خلاف کام کرتے ہیں وہ یہ اعلان سن لیں۔

قُلِ اللَّـهُ أَسْرَعُ مَكْرًا

اللہ سب سے جلدی خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے

اور انشاءاللہ سب کو خفیہ تدبیر کے ذریعے اس نے لٹا دینا ہے۔ اب حضور کا دین لے کر آنا ہے۔ ٹرمپ ہو یا ٹرمپ کا باپ ہو یا ٹرمپ کے بچے ہوں غلام ہوں کوئی بھی ہوں ۔ ایک بات یاد رکھیں

هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ

(القرآن سورۃ الصف، آیۃ 9)

کا وعدہ رب نے فرمایا ہے۔ وہ خود پوری دنیا پر اپنے حبیب کے دین کو غالب فرمائے گا۔ رب نے یہ وعدہ فرمایا اپنے حبیب سے کہ

وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ

اور رب کا یہ بھی وعدہ ہے کہ

وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

(القرآن، سورۃ المائدہ، آیۃ 67)

میرے حبیب ہمیشہ اللہ آپ کی حفاظت فرمائے گا لوگوں سے کوئی بندہ آپ کی توہین نہیں کر سکے گا یہ اس کے اپنے وعدے ہیں۔ ممتاز قادری خود تھوڑا اٹھتا ہے علم الدین خود تھوڑا اٹھتا ہے مرید الدین، غازی محمد صدیق خود تھوڑا آتا ہے غازی تنویر خود تھوڑا آتا ہے یہ تو اس کا وعدہ ہے

وَاللَّـهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ

اللہ تعالی آپ حضرات بالکل حضور کے دین کا کام کریں اور بالکل کان بند کر دیں۔ کان بند کرنے کے بعد کہیں کہ بھئی رسول اللہ کا دین آنا ہے۔انہوں نے پوچھنا ہے کیسے آنا ہے؟ انہیں کہنا ہے یہ ہماری ڈیوٹی تھوڑی ہے۔

حافظ وظیفه تو دعا گفتن است و بس

دربند آن مباش که نشنید یا شنید [لنک]

(حافظ شیرازی )

حافظ شیرازی کہتا ہے حافظ تیرا کام اتنا ہی ہے کہ تو نماز پڑھتا رہ دعا مانگتا رہ، وہ قبول کرے یا نہ کرے یہ تیری ڈیوٹی نہیں ہے یہ اس کا کام ہے۔ ہمارا کام ہے حضور کے دین کا کام کرنا

تاجدار ختم نبوت زندہ باد زندہ باد


وأما أهل السنة فإنهم يترضون عمن رضي الله عنه ، ويسبون من سبه الله ورسوله ، ويوالون من يوالي الله ، ويعادون من يعادي الله ، وهم متبعون لا مبتدعون ، ويقتدون ولا يبتدون ولهذا هم حزب الله المفلحون وعباده المؤمنون .

تفسیر ابن کثیر، سورۃ توبہ، آیۃ 100

  • ” عن أبي نجيح العرباض بن سارية رضي الله عنه قال : وعظنا رسول الله صلى الله عليه وسلم موعظة وجلت منها القلوب ، وذرفت منها العيون ، فقلنا : يا رسول الله ، كأنها موعظة مودع فأوصنا ، قال : ( أوصيكم بتقوى الله ، والسمع والطاعة ، وإن تأمّر عليكم عبد ؛ فإنه من يعش منكم فسيرى اختلافا كثيرا ، فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين ، عضّوا عليها بالنواجذ ، وإياكم ومحدثات الأمور ، فإن كل بدعة ضلالة )

رواه أبو داود والترمذي وقال: حديث حسن صحيح.”

 

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم أَوْصَى بِثَلَاثَةٍ: قَالَ: «أَخْرِجُوا الْمُشْرِكِينَ مِنْ جَزِيرَةِ الْعَرَبِ وَأَجِيزُوا الْوَفْدَ بِنَحْوِ مَا كُنْتُ أُجِيزُهُمْ» . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَسَكَتَ عَن الثَّالِثَة أَو قَالَ: فأنسيتها

بيْنَما نَحْنُ في المَسْجِدِ إذْ خَرَجَ عليْنا رَسولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ، فقالَ: انْطَلِقُوا إلى يَهُودَ فَخَرَجْنا معهُ حتَّى جِئْنا بَيْتَ المِدْراسِ، فَقامَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ فَناداهُمْ: يا مَعْشَرَ يَهُودَ، أسْلِمُوا تَسْلَمُوا فقالوا: قدْ بَلَّغْتَ يا أبا القاسِمِ، فقالَ: ذلكَ أُرِيدُ ثُمَّ قالَها الثَّانِيَةَ، فقالوا: قدْ بَلَّغْتَ يا أبا القاسِمِ، ثُمَّ قالَ الثَّالِثَةَ، فقالَ: اعْلَمُوا أنَّ الأرْضَ لِلَّهِ ورَسولِهِ، وإنِّي أُرِيدُ أنْ أُجْلِيَكُمْ، فمَن وجَدَ مِنكُم بمالِهِ شيئًا فَلْيَبِعْهُ، وإلَّا فاعْلَمُوا أنَّما الأرْضُ لِلَّهِ ورَسولِهِ.

الراوي : أبو هريرة | المحدث : البخاري | المصدر : صحيح البخاري | الصفحة أو الرقم: 6944 | خلاصة حكم المحدث : [صحيح] التخريج : أخرجه البخاري (6944) واللفظ له، ومسلم (1765) | الكتب » صحيح مسلم » كِتَاب الْجِهَاد وَالسِّيَرِ » بَاب إِجْلَاءِ الْيَهُودِ مِنْ الْحِجَازِ

Advertisements

BBC News The Fake News

BBC news service boasts itself to be moral superior to other news sources, often criticizing social and local news media in Pakistan. The BBC Urdu news site quickly captured Pakistani traffic as it was one of the earliest news sites launched in Unicode. However, we Pakistanis have often witnessed it spreading outright lies. During 1965 India-Pakistan war, BBC reported that India had captured Lahore. That news was fake news.

BBC once more fabricated a fake news that quickly got spread and the print media made that news headline on front pages. That news was about Asia Bibi, the woman convicted for blasphemy under 295C, “Asia has been released from jail and flown out of Pakistan.” However the news was rejected by Pakistan foreign office spokesperson on the following day. The newspapers that copied BBC news had to publish apologies.

The BBC fake news was aimed at pushing Pakistan one more time to strikes and riots. However, by the grace of Almighty Allah, this did not happen. Quite cunningly, BBC changed the news story and headline. I shared a link citing BBC says Asia left Pakistan. When the link was opened after few hours, it had an entirely different story. BBC instead of announcing a graceful rebuttal or an apology, selected to change the story, shaming the persons who had shared the link in the context of previous news headings.

 

Here is the screen shot of the first news coverage that was changed afterwards.

asia bibi flies out
First news www.bbc.com/urdu/pakistan-46132740: “Asia Bibi Leaves Pakistan”

The BBC site where two opposing news were shared from the same link:  www.bbc.com/urdu/pakistan-46132740

asia bibi inside pakistan.jpg
First news www.bbc.com/urdu/pakistan-46132740: “Asia Bibi is still inside Pakistan”

BBC Urdu has started lessons on educating journalists how to news with responsibility but she itself poses perfect example in terms of the Urdu proverb

خود را فضیحت دیگراں را نصیحت

Translation: “Forbidding others while committing the same crime”

I think Mr. Trump has some truth when he points out the Fake News Media. Of course BBC is at the front of the fake news network.

In my opinion a widely read news site like BBC should accept its mistake with open heart. Secondly, at least the title of a news link should remain same. Changing the title with 180 degree different news is a crime that embarrasses many, yes me included.

TLP shows muscle in Lahore rally against rigging in Election2018

6aug2018b

 

LAHORE 6-August-2018: Allama Khadim Hussain Rizvi led a massive rally from Data Darbar to the Assembly Hall, turning it to be a moral booster for the workers of Tehreek-e-Labaik Pakistan(TLP). TLP was agitating against the controversial 2018 General Elections that were marred by serious rigging allegation from opposition, due to; Forced and illegal removal of party’s polling agents, big alterations in official results from unofficial results, frequent changes of winner candidates on official Election Commission of Pakistan (ECP) website, careless handling of ballot papers with papers being found on dump sites and school desks, controversial statements on whether the Results Transmission System (RTS) failed or not, etc.

Allama Khadim Hussain Rizvi stated his firm stance to fight till the end for making the Islam supreme ruling power of Pakistan, “We will not stop. They thought TLP will sit down disheartened after their defeat through stealing our mandate, but we will keep fighting.”

He asked the audience whether or not TLP should contest the coming by-elections. The answer was a thrilled yes by the crowd, insisting on keep fighting.  He then encouraged the candidates of TLP. “We would not leave the field open. We would take part in by-elections and would do so better prepared,” he announced. He asked the party workers to go and prepare for the by-elections.

Allama Khadim Hussain wondered why contradictory statements on working of RTS? It should be investigated who was responsible for the sloppy system? Chairman Election Commission should resign for failing to conduct free and fair elections.

“The TLP would continue protesting till our stolen mandate is returned back to us. It would take out a rally on August 12 in Karachi. Next protest plan would be announced after Karachi event”, Mr Rizvi said.

He demanded that the Election Commission should upload all Form 45 and 46 on its website so that people knew what had exactly happened in their constituencies. “It is also time for the election commissioner to either quit himself or be thrown out because he has failed to conduct free and fair elections.”

The rally had a substantial and charged attendance with estimated presence of 50,000.

The cool breeze and rain made the hot weather of Lahore pleasant during the speech of Allama Khadim Hussain Rizvi.

The participants remained steady despite rain and became more charged as it converted to downpour. Allama Shahid Chishti took the mic at this moment and commented that the situation resembles that of FaizaAbad Dharna and started reciting his favourite Naat, ‘Nabi Nu Rab Noor Kia’ with vibrant and jubilant crowed repeating after him.

“Many people came to purchase us before elections, but were told that we are not for sale. They told us that they have commitments to fulfill. I told them we also have commitments – with the Holy Prophet (PBUH) to fight for his deen. So, they went ahead with their commitments and we are moving forwards with our own,” Mr Rizvi told a charged crowd.

Earlier Shah Anyat Haq Qadri, Chairman TLP Islamabad chapter, made a speech criticizing the role of ECP. He asked the leadership of army that rigging in 2018-General Elections was also a conspiracy against army to make it distant from people of Pakistan and present it in bad light. So army should clearly state its stance at the negligence of ECP.

Allama Farooq Ul Hassan Qadri recited his favourite Naat, written by the great freedom fighter of united India Molanna Kifayat Ali Kafi, “Koi Gul Baqi Rahay Ga Na Yeh Chaman Reh Jay Ga”.

Allama Khadim Rizvi also said, we did not win but we are not sad. Our faces are still jubilant and glittering. The people who won this election beyond their real strength are sad and gloomy on the other hand. That is because we are not working for our personnel benefit but we are fighting for the Deen of the beloved Prophet Muhammad, peace and countless blessings of Almighty Allah be upon him.6aug2018

At the end Allama Rizvi maid a prayer to Allah, saying it is the weapon of the believers, “O Almighty Allah either give a chance to repent and be good or destroy and humiliate every single person who attempted to stop progress of Islam “. He also rebuked the Mullahs and Peers who choose other party, “If you did not satisfy from the door of the Holy Prophet, peace and countless blessings of Almighty Allah be upon him, do you think that, that person who never pays a bill after eating out, can satiate you?”

 

Pakistan Election 2018

The general elections held on 25th July 2018 in Pakistan have invited rigging charges from all political parties except the majority Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI). It is general perception that PTI came to power with help from Pakistan’s military establishment.

There is a viral video circulating on youtube where people find ballot papers stamped with Crane, the party symbol of Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP), burning in trash in NA247۔ These ballot papers are reported to have the stamp and signatures of the assistant presiding officers, indicating these were the genuine votes casted that must have been bundled and sealed to the office of returning office. TLP, being an Islamist party, has suffered many injustices and unfair treatment at the hands of Election Commission of Pakistan (ECP), before-during-and-after the elections 2018.

An application to returning officer by TLP candidate of NA249 for recounting of the ballot papers has summarily been rejected without giving the real reason. It is worth mentioning that the standard of results has been very substandard with many results being changed in recounting process. The result form (form-45) were not handed to TLP polling agents as per rules. Polling agents were thrown out at the time of counting violating the set procedures. Women were harassed.

polling na247.jpg

There is a viral video circulating on twitter and other social media where people have found ballot papers stamped at election symbols of TLP and PPP. The location is said to be Karachi Kachra Kundi. Some of the ballot papers had been burnt while others were found intact. ECP has started investigations.

The PTI win in general elections 2018 has widely been attributed to the handy work of establishment. Many cartoons appearing on the media depict Imran Khan joining hands with army. A tweet mentions cartoon of a person in uniform making magic trick and Imran comes out of the magicians hat. In another toon, a uniformed man is holding a cup and cup holds IK.

The funniest toon shows Imran on pitch holding a bat while a big man in uniform holds the bat with him to teach how to play.

One more shows the skipper polishing the boots.

National assembly constituency NA-106 result shows the margin of win to be around 5398 polls but the number of rejected polls is more than 13660.

In a similar result in NA230, The rejected polls stand at 10263 while margin of victory is mere 860.

It is the unanimous grievance of all opposition parties that polling agents were either thrown out during the counting process or they were not handed the proper result on form-45 as per rules. A viral video showed a presiding officer saying he did lost the forms so the result can not be provided. A picture shows unfilled form-45 with thumb impression and signatures of the presiding officers. Were the results to be filled in somewhere else later?

The election 2018 were held under heavy hand of establishment. Parties like TLP were refused even the bare minimum coverage on new channels. Most favourite party happened to be PTI who was given maximum coverage and air time. After TLP, PMLN was the other party who suffered at the hands of establishment.

 

In NA-241out of 1777total poling stations, result of 65 was properly handed over to TLP. According to result of these polling stations  TLP and MQM are way above PTI. Results of 115 polling stations were not provided and here PTI won with huge margin, counter to the intuition.

News channels were showing the winning streak of TLP in initial results but then the results were stopped, polling agents thrown out and results changed. Geo showed three seats won by TLP in Punjab assembly initially.

The candidate of TLP Bilal Saleem Qadri was broadcasted as winner after complete unofficial result. However, later on the result was changed in favor of PTI candidate.

 
School students find ballot papers stuffed in their desk.

Un-Islamic changes made by PTI and PMLN in School Text Books

There were a number of course changes in school text books of Pakistan during the last government 2013~2018 of Pakistan Muslim League Nawaz. There are four text book boards in the country who decide the curriculum for the school children, Punjab Text Book Board, KPK Text Book Board, Sindh Text Book Board and Baluchistan Text Book Board. There have been foreign funded researches to investigate the course and revise them to so called secular and liberal values. The main aim is to cut the Islamic roots off of the Pakistani nation as it is a perceived threat to new world order.

There were number of cries for immoral course changes that  I will try to present here. First inline is the KPK Text Book Board and the pictures available on social media do a precise table of content comparison between new and old books.


 


First book is the KPK Text Book Board’s Urdu Text Book for class-IV. The course designers thought the following lessons were redundant and hence removed:

  • Hazrat Aisha Saddiqa, may Allah be please with her
  • Allama Muhammad Iqbal
  • Tipu Sultan Shaheed
  • Poem on Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinah
  • Minar-e-Pakistan
  • Hazrat Fatima, may Allah be pleased with her.
  • Prayer

The new book has following new religion free chapters added in place of the above Islamic lessons:

  • Heaalth and Cleanliness
  • Our atmosphere
  • Poem on Tot Batot
  • Sparing
  • Picture Story

kpk6


KPK Text Book Board Urdu course book for class-V has following lessons of national and Islamic tilt removed.

  • Hazrat Aisha Siddiqa, may Allah be pleased with her
  • Poem Forgiveness
  • Hazrat Bilal, may Allah be pleased with him
  • Quaid-e-Azam Muhammad Ali Jinnah
  • Poem My Allah
  • Hazrat Rabia Basria
  • The woman warrior Hazrat Khola, may Allah be pleased with her
  • Major Aziz Bhatti Shaheed
  • Two little soldiers (Ghzva Badar), may Allah be pleased with them
  • Muhammad Bin Bakhtiar Khilji
  • The Innocent Have Nothing to Fear
  • Saudi Arabia
  • Ajab Khan Afridi
  • Prayer (Lab pe aati hay dua)

The new book is changed with following lessons:

  • Scouting
  • Our Crafts
  • The peak of the dead
  • Pakistani savior
  • Pollution

kpk7


KPK Text Book Board Arabic course book for class-VII has following lessons of national and Islamic tilt removed.

  • Good Manners of the Holy Prophet peace and countless blessings of Almighty Allah be upon him
  • Hadeeth Sharif
  • Comprehensive Sayings
  • Islamic Brotherhood
  • Knowledge of Allah
  • Surah Al Imran with translation

The new book is changed with following lessons:

  • Spring
  • Song
  • Dialogue between a patient and a doctor
  • Cricket
  • Balochistan, the land of minerals
  • Zoo
  • Precious time
  • Pakistani foods
  • Dialogue between a student and a librarian
  • Social assistance
  • Indus river
  • Application for leave

kpk9

kpk10

ptbb

Sindh TBB

Sindh TBB2

http://usvah.org/component/k2/itemlist/tag/sindh%20book: Sindh Text Book Board including Malala etc. over Islamic personalities.

http://khaaskhaas.blogspot.com/2018/03/blog-post_72.html: Hadeeth authentication

 

MP3 Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP) Tarana

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الصلاۃ والسلام علیک یارسول اللہ
و علی آلک واصحابک یاحبیب اللہ

Naara Labaik ya Rasool-Allah
نعرہ لبیک یارسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم

Yeh Na Insafi Na Bhai Na, Yeh Wada Khilafi Na Bhai Naa
یہ نا انصافی نہ بھئی نہ، یہ وعدہ خلافی نہ بھئی نہ

Laraz Utha Hai Batil Bhi Khadim Hussain Jo Aya Hai
لرز اٹھا ہے باطل بھی، خادم حسین جو آیا ہے

Tu Mor Krane Te Landa Jaا
توں مہر کرین تے لاندا جا   

‏Mazloomon aur Lacharoon Ko Islam Sahara Day Ga
 مظلوموں اور لاچاروں کو اسلام سہارا دے گا، طوفانوں میں کشتی کو اسلام کنارا دے گا

Labbaik Teri Jit Shallah, Insha Allaha  Insha Allaha
لبیک تیری جت شالا، انشاءاللہ انشاءاللہ

Na Biknay Walay Hain Na Jhukne Walay Hain
نہ بکنے والے ہیں نہ جھکنے والے ہیں، غیروں کے اشاروں پر  نہ رکنے والے ہیں

Iwanoon Main Goonjay Ga Kia? Labbaik Ya Rasool Allah
 ایوانوں میں گونجے گا کیا، لبیک یارسول اللہ۔ ہرباطل سن کر بھاگے گا، لبیک یارسول اللہ 

295C Main Tabdeeli Hai Na Manzoor
ٹو نائین فائیو سی میں تبدیلی ہے نامنظور

Crane for Tehreek-E-Labaik, Excavator for Independents

khiRizviKa2Election commission of Pakistan has allotted the symbol of Excavator to independent candidates in general election 2018. Tehreek-e-Labbaik Pakistan (TLP) has been awarded the election symbol of crane. However, for ordinary voters it is difficult to distinguish between the two. The term excavator is almost never used in everyday conversation and a street person would call both of them as crane. In some areas, even TLP candidates are showing the symbol of excavator on their publicity banners. It would have been more prudent of ECP if the closely matching symbols were not used. excavator.png

 

List of candidates assigned the symbol of Excavator:

na-39 Irfan ullah khan
na-50 Anwar khan
pk-36 Imran Khan

na-45 Anwar Khan
na-54 Anwar Khan
na-77 Muhammad Akmal Sadiq
na-82 Muhammad Farooq
na-87 Muhammad Naeem
na-118 Hussain Shahjahan Bhatti
na-137 Zaffar Jabbar Chishti
na-147 Miraj Hameed
na-67 Saqib Hamid
na-77 Hafiz Akmal Sadiq
na-78 Hafiz Akmal Sadiq

pp-27 Saqib Hamid
pp-32 Sajid Mehmood
pp-44 Tariq Mehmood
pp-50 Rana Sufyan Mahmood
pp-55 Waqar Ahmed Cheema
pp-69 Ali Kamran
pp-88 Mazhar Hussain
pp-122 Naveed Akhtar
pp-133 Sohail Manzoor
pp-138 Zaheer Afzal
pp-142 Tariq Mehmood
pp-181 Rana Muhammad Nadeem Aslam
pp-182 Afzal Khan
pp-196 Saddam Hussain
pp-197 Qasim Nadeem
pp-209 Muhammad Mushtaq
pp-212 Pirzada Mian Saqlain Raza
pp-239 Irfan Sarwar
pp-275 Muhammad Ali

PB-44 Muhammad Azam
PB-49 Syed Arif Ali Shah

PS-4 Muhammad Hanif

 

 

 

 

excavator.png